نئی دہلی، 16ستمبر (ایس او نیوز؍یو این آئی) کانگریس نے مودی حکومت پر عام لوگوں کی بجائے 'گھپلہ بازوں' کے لئے کام کرنے کا الزام لگاتے ہوئے آج کہا کہ بینکوں کا کروڑوں روپے کا قرض لے کرفرار ہوئے وجے ملیا کے معاملہ میں حکومت اور مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا اس لئے اس کے ملک سے فرار ہونے کے تعلق سے عدالت کی نگرانی میں آزادانہ تفتیش کرائی جانی چاہئے ۔
کانگریس کے میڈیا پینل کے رکن جے ویر شیرگل نے یہاں پریس کانفرنس میں کہاکہ ملیا کو بھگانے میں جس طرح سی بی آئی کے ایک جوائنٹ ڈائرکٹر کا کردار سامنے آیا ہے اس کے بعد نہ تو حکومت اور نہ ہی تفتیشی ایجنسی پر اعتماد کیا جاسکتا ہے ۔ اس لئے ہم اس معاملہ کی آزادانہ جانچ کی مانگ کرتے ہیں۔....ہم چاہتے ہیں کہ یہ تفتیش عدالت کی نگرانی میں کرائی جائے ۔
مسٹر شیرگل نے کہاکہ یہ حکومت 'کامن مین(عام آدمی) کی جگہ 'کون مین (گھپلہ بازوں)کے لئے کام کررہی ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چار برس میں 23ہزار بینک گھپلے ہوئے ہیں جن میں گھپلہ بازوں نے بینکوں کو 90ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا چونا لگایا ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس دوران وجے ملیا، نیرو مودی، میہول چوکسی اور راجیو گوئل سمیت 23 بڑے گھپلہ باز بینکوں کا پیسہ لیکر حکومت کی مدد سے بیرون ملک فرار ہوچکے ہیں۔پارٹی نے مانگ کی کہ صرف ملیا ہی نہیں بلکہ تمام 23مفروروں کو ملک چھوڑ کر جانے میں کس نے مدد کی اس کی تفتیش ہونی چاہئے ۔ ان معاملات میں راست طورپر وزیراعظم، وزیرخزانہ اور سی بی آئی کی ذمہ داری طے کی جانی چاہئے ۔
وزیراعظم کو پارلیمنٹ کے ذریعہ ملک کو بتانا چاہئے کہ ان مفرور اقتصادی مجرموں کو کب ملک میں واپس لایا جائے گا اور عام لوگوں کا جو پیسہ لیکر یہ لوگ بیرون ملک فرار ہوگئے ہیں اس کی تلافی کیسے کی جائے گی۔وزیر خزانہ ارون جیٹلی اور ملیا کی ملاقات کو 'جب وی میٹ۔2'کا نام دیتے ہوئے مسٹر شیرگل نے پوچھا کہ اس پر تین برس تک کیوں پردہ ڈالا گیا۔ بی جے پی لیڈروں کے اس ملاقات سے انکار کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہاکہ اگر بی جے پی میں ہمت ہے تو وہ یکم مارچ 2016کی پارلیمنٹ کے سی سی ٹی وی کیمرے کی پوری ریکارڈنگ جنتر منتر پر چلوائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکے ۔